Posts

Showing posts from February, 2026

کرکٹ

 کرکٹ کالم از: سر جاوید بشیر آج پاکستان نے بین الاقوامی کرکٹ کی دنیا میں ایک ایسی دھماکہ خیز فیصلہ کیا ہے جس کی گونج طویل عرصے تک سنائی دے گی۔ یہ فیصلہ صرف ایک میچ نہ کھیلنے کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسا جراتمندانہ اقدام ہے جو عالمی کرکٹ کے سیاسی و معاشی توازن کو یکسر بدل سکتا ہے۔ پاکستان نے 15 فروری 2026 کو کولمبو میں بھارت کے خلاف ہونے والے اپنے ٹی20 ورلڈ کپ گروپ میچ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ وہ باقی تمام میچز کھیلے گا۔ یہ قدم عوامی بیان کے مطابق بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی میں اٹھایا گیا ہے، جنہیں انڈیا میں میچز کھیلنے کے سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹورنامنٹ سے خارج کر دیا گیا تھا۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اس فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی کھیل کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے اور "سیلکٹیو پارٹیسپیشن" عالمی ایونٹ کی روح اور تقدس کو مجروح کرتی ہے۔ آئی سی سی نے پی سی بی پر زور دیا ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے کوئی باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرے۔ آئی سی سی کے پلےنگ کنڈیشنز کے تحت، پاکستان کو یہ میچ ...

ڈالر کے زوال کی داستان

  ڈالر کے زوال  کی داستان کالم از: سر جاوید بشیر  کیا واقعی ڈالر کی حکمرانی کا سورج ڈوب رہا ہے؟ یا یہ صرف ایک بادل کا گزر ہے؟ آئیے، اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد بریٹن ووڈز معاہدے نے امریکی ڈالر کو دنیا کی "ریزرْو کرنسی" بنا دیا۔ اس کی کامیابی کی چار بنیادی وجوہات تھیں۔ پہلی، امریکہ کی زبردست معاشی طاقت اور اس کی معیشت کا سائز۔ دوسری، سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کا مضبوط نظام۔ تیسری، گہرا، کھلا اور لیکویڈ ٹریژری بانڈ مارکیٹ جہاں دنیا بھر کے سرمایہ کار اپنا پیسہ محفوظ سمجھ کر لگاتے تھے۔ چوتھی اور سب سے اہم، "پیٹرو ڈالر" کا نظام، جس کے تحت سعودی عرب سمیت اوپیک ممالک نے اپنا تیل صرف ڈالر میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ تیل خریدنے کے لیے ہر ملک کو ڈالر کی ضرورت پڑتی تھی، جس نے ڈالر کی مانگ کو ہمیشہ برقرار رکھا۔ آج ڈالر جو دباؤ برداشت کر رہا ہے، اس کی وجہ امریکہ کے اپنے ہاتھوں بوئے گئے بیج ہیں۔ پہلا اور سب سے بڑا بیج ہے امریکی قومی قرضہ۔ امریکہ کا قومی قرضہ اس وقت 38 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو اس کے جی ڈی پی کا تقریباً...