ڈالر کے زوال کی داستان

 ڈالر کے زوال  کی داستان


کالم از: سر جاوید بشیر


 کیا واقعی ڈالر کی حکمرانی کا سورج ڈوب رہا ہے؟ یا یہ صرف ایک بادل کا گزر ہے؟ آئیے، اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں۔


دوسری عالمی جنگ کے بعد بریٹن ووڈز معاہدے نے امریکی ڈالر کو دنیا کی "ریزرْو کرنسی" بنا دیا۔ اس کی کامیابی کی چار بنیادی وجوہات تھیں۔ پہلی، امریکہ کی زبردست معاشی طاقت اور اس کی معیشت کا سائز۔ دوسری، سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کا مضبوط نظام۔ تیسری، گہرا، کھلا اور لیکویڈ ٹریژری بانڈ مارکیٹ جہاں دنیا بھر کے سرمایہ کار اپنا پیسہ محفوظ سمجھ کر لگاتے تھے۔ چوتھی اور سب سے اہم، "پیٹرو ڈالر" کا نظام، جس کے تحت سعودی عرب سمیت اوپیک ممالک نے اپنا تیل صرف ڈالر میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ تیل خریدنے کے لیے ہر ملک کو ڈالر کی ضرورت پڑتی تھی، جس نے ڈالر کی مانگ کو ہمیشہ برقرار رکھا۔


آج ڈالر جو دباؤ برداشت کر رہا ہے، اس کی وجہ امریکہ کے اپنے ہاتھوں بوئے گئے بیج ہیں۔ پہلا اور سب سے بڑا بیج ہے امریکی قومی قرضہ۔ امریکہ کا قومی قرضہ اس وقت 38 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو اس کے جی ڈی پی کا تقریباً 100 فیصد ہے۔ یہ قرضہ صرف بڑھ رہا ہے، کم نہیں ہو رہا۔ ہر سال خسارہ تقریباً جی ڈی پی کا 6 فیصد بنتا ہے، جو عام امن کے زمانے میں تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ اس قرضے پر سود ادا کرنا خود ایک بہت بڑا بوجھ بن چکا ہے۔


دوسرا بڑا بیج ہے امریکی سیاسی عدم استحکام۔ سابق وزیر خزانہ جینیٹ یلن کا کہنا ہے کہ فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) کی آزادی کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر مطالبہ کیا ہے کہ قرضے کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے شرح سود کو غیر معمولی طور پر کم سطح پر لایا جائے، چاہے اس سے معیشت کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔ اس طرز عمل کو "مالیاتی تسلط" کہا جاتا ہے، جب حکومت اپنے قرضے چکانے کے لیے مرکزی بینک کو مجبور کرتی ہے، نتیجتاً مہنگائی بڑھتی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو کئی ممالک کو تباہی کی طرف لے گیا۔


تیسرا بیج ہے امریکی یکطرفہ خارجہ پالیسی اور پابندیاں۔ جب امریکہ نے روس، ایران اور دیگر ممالک پر سخت پابندیاں لگائیں، تو ان ممالک نے ڈالر کے بغیر تجارت کا راستہ ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ یہ بقول ایک تجزیہ کار کے، "ڈالر کے تحفظ اور استحکام پر اعتبار کو کمزور" کرنے کا سبب بنا۔


جب طاقتور کمزور ہونے لگتا ہے، تو دنیا اس سے آزادی کی راہیں ڈھونڈنے لگتی ہے۔ آج یہی ہو رہا ہے۔

دنیا بھر کے مرکزی بینک اپنے ذخائر میں ڈالر کا تناسب کم کر رہے ہیں۔ ڈالر کا حصہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ کر 60 فیصد سے نیچے گر گیا ہے۔ اس کی جگہ کیا لے رہا ہے؟سونا ۔ ترقی پذیر ممالک کے مرکزی بینک، خاص طور پر چین، روس اور ترکی، بڑی مقدار میں سونا خرید رہے ہیں، جو ایک محفوظ متبادل سمجھا جاتا ہے۔ سونے کی قیمتیں بڑھ کر 2026 کے وسط تک 4000 ڈالر فی اونس تک پہنچنے کا امکان ہے۔

چین نے 71 ارب ڈالر کے امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کیے ہیں۔ بھارت نے بھی تقریباً 50 ارب ڈالر کے بانڈز کم کر دیے ہیں۔ مجموعی طور پر، ٹریژری مارکیٹ میں غیر ملکی ملکیت کا حصہ 50 فیصد سے گر کر صرف 30 فیصد رہ گیا ہے۔ 


چین، 40 سے زائد ممالک، جیسے سعودی عرب، عراق، اور ارجنٹائن کے ساتھ یوان میں تجارت کر رہا ہے۔ چین کا کراس بارڈر انٹربینک پیمنٹ سسٹم (CIPS) جنوبی افریقہ اور برازیل سمیت کئی ممالک میں پہنچ چکا ہے، جو ڈالر کے بغیر براہ راست یوان میں لین دین کرتا ہے۔

روس اور ایران، یہ دونوں ممالک اپنی باہمی تجارت اور تیل کے کاروبار کا زیادہ تر حصہ روبل اور یوان میں کرتے ہیں۔

 بھارت، روس سے کوئلہ اور تیل یوان میں خرید رہا ہے، اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ روپیہ اور درہم میں تجارت کر رہا ہے۔

برکس (BRICS) کا "برج" منصوبہ، یہ ایک ڈیجیٹل کرنسی کا نظام ہے جو برکس ممالک کو ڈالر اور SWIFT نیٹ ورک دونوں کے بغیر تجارت کرنے کی اجازت دے گا۔


 سب سے بڑا دھچکا وہ ہے جب سعودی عرب نے ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں تیل کی فروخت کو قبول کرنا شروع کیا۔ اگرچہ اس عمل میں احتیاط برتی جا رہی ہے، لیکن صرف یہ خیال ہی کہ "پیٹرو یوان" کا دور آ سکتا ہے، ڈالر کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔


ڈالر کیا یہ واقعی ختم ہو جائے گا؟

 نہیں، ڈالر جلد ہی غائب نہیں ہو جائے گا۔ اس کی وجوہات بھی ہیں۔


پہلی وجہ: کوئی فوری متبادل نہیں۔ چینی یوان اب بھی عالمی تجارت کے صرف 10 فیصد سے کم حصے میں استعمال ہوتا ہے۔ یورو کا کردار محدود ہے۔ کسی بھی کرنسی کو عالمی ریزرو بننے کے لیے مکمل طور پر کھلا ہوا مالیاتی بازار، سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی درکار ہوتی ہے، جو فی الحال صرف امریکہ میں ہے۔


دوسری وجہ: ڈالر کا بنیادی ڈھانچہ۔ بین الاقوامی تجارت کا 88 فیصد حصہ اب بھی ڈالر میں ہوتا ہے۔ دنیا کے تمام بینکاری اور تجارتی نظاموں کی ریڑھ کی ہڈی ڈالر ہے۔ اسے تبدیل ہونے میں دہائیاں لگیں گی۔


لیکن دوسری طرف سچائی یہ ہے کہ ڈالر کی بالادستی ختم ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈالر ایک "زخمی حاکم" ہے۔ اس کا زوال ایک دھماکے کی بجائے "دھیمی آگ" کی طرح ہے، جو بتدریج لیکن یقینی طور پر اس کی طاقت کو کھا رہی ہے۔ مستقبل میں ہم ایک ایسی دنیا دیکھیں گے جہاں کئی کرنسیاں اہم کردار ادا کریں گی۔ ڈالر شاید سب سے بڑا رہے، لیکن وہ واحد نہیں رہے گا۔


پاکستان کے لیے یہ عالمی تبدیلی ایک بہت بڑا چیلنج اور ایک عظیم موقع دونوں ہے۔


ہماری معیشت ڈالر پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ ہماری درآمدات، قرضوں کی ادائیگیاں، اور تیل کا سب سے بڑا بل ڈالر میں ہی ہے۔ اگر ڈالر کی قدر میں تیزی سے کمی آتی ہے یا اس میں اتار چڑھاؤ بڑھتا ہے، تو پاکستان کو مہنگائی، درآمدی اخراجات میں اضافہ اور قرضوں کے بوجھ میں شدت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


پاکستان اب اپنے دوست ممالک، خاص طور پر چین، روس، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ نئی مالیاتی شراکت داریاں بنا سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ چین کے ساتھ یوان میں تجارت کو بڑھائیں۔ پاکستان چین سے جو بھاری مشینری اور اشیا درآمد کرتا ہے، اس کا کچھ حصہ یوان میں ادا کرنے کے معاہدے کرے۔

روس اور ایران سے تیل اور گیس غیر ڈالر کرنسی میں خریدنے کی کوشش کریں۔ یہ ہمارے ڈالر کے اخراجات میں بہت بڑی کمی لا سکتا ہے۔

سونے کے ذخائر میں اضافہ کریں۔ پاکستان کے پاس سونے کے ذخائر بہت کم ہیں۔ اس عالمی رجحان کے مطابق، پاکستان کو بھی اپنے مالیاتی ذخائر میں سونے کا تناسب بڑھانا چاہیے تاکہ ڈالر کے اتار چڑھاؤ سے تحفظ حاصل ہو سکے۔

برکس کے ممالک کے ساتھ مالیاتی تعاون بڑھائیں۔ برکس کا "برج" نظام اور CIPS جیسے متبادل نظاموں میں شامل ہو کر پاکستان عالمی مالیاتی نظام پر امریکی کنٹرول سے کچھ آزادی حاصل کر سکتا ہے۔


ڈالر کا محاصرہ محض ایک مالیاتی واقعہ نہیں ہے۔ یہ تاریخ کے ایک موڑ کا اعلان ہے۔ جس طرح سلطنتِ برطانیہ کا سورج ڈوبا، رومن سکے کی قدر ختم ہوئی، اور سپین کا "ڈبلون" تاریخ کا حصہ بنا، اسی طرح ہر عظیم طاقت کی کرنسی کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ امریکہ کی معاشی غلطیوں، سیاسی انتشار اور یکطرفہ جارحیت نے اس کے سب سے بڑے ہتھیار کو کمزور کر دیا ہے۔


اب دنیا ایک نئے مالیاتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ تبدیلی خوفناک ہو سکتی ہے، کیونکہ پرانی طاقت جاتی ہے تو نئی طاقتیں ابھرتی ہیں، اور اس دوران لڑائی ہوتی ہے۔ لیکن یہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک سنہری موقع بھی ہے کہ وہ نئے اتحاد بنائیں، نئے تجارتی راستے دریافت کریں، اور اپنی معیشت کو ڈالر کی غلامی سے آزاد کرائیں۔


فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ کیا ہم پرانے نظام کا ماتم کریں گے؟ یا پھر نئے نظام کے معمار بنیں گے؟ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ جو قومیں تاریخ کے موڑ پر درست فیصلے کرتی ہیں، وہی ترقی کی نئی منزلیں طے کرتی ہیں۔ پاکستان کے پاس علم، نوجوان افرادی قوت، اور جغرافیائی محل وقوع کی طاقت ہے۔ اب ضرورت ہے تو صرف ایک واضح حکمت عملی، مضبوط قومی یکجہتی، اور مستقبل کو گلے لگانے کے حوصلے کی۔

Comments

Popular posts from this blog

بورڈ آف پیس معاہدہ

ایران جنگ