بورڈ آف پیس معاہدہ
بورڈ آف پیس معاہدہ: نیا عالمی امن ڈھانچہ یا امپیریل کلب؟
کالم از: سر جاوید بشیر
امن کی تلاش انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ ہر دور میں انسان نے جنگ اور خونریزی کے بعد صلح اور آشتی کے راستے ڈھونڈے ہیں۔ آج پوری دنیا کی نظریں ایک نئے "بورڈ آف پیس" پر ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تشکیل دیا ہے۔ یہ بورڈ کیا ہے؟ کس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے؟ پاکستان کا اس میں کیا کردار ہے؟ اور کیا یہ بورڈ واقعی عالمی امن کے لیے کوئی مثبت تبدیلی لائے گا یا صرف طاقتور ممالک کی کچھ اور ہی کہانی ہے؟ آئیے، ہم آپ کو ہر پہلو سے سمجھاتے ہیں۔
یہ بورڈ آف پیس دراصل ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں پھیلے تنازعات کو حل کرنا اور امن قائم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اس کا آئیڈیا سب سے پہلے غزہ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سامنے آیا تھا۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے جاری جنگ نے غزہ کی پوری کی پوری عمارت ڈھا دی تھی، لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔ ایسے میں امریکہ نے ایک صلح کا نقشہ پیش کیا جس کا دوسرا مرحلہ غزہ کی دوبارہ تعمیر تھا، اور اسی تعمیر نو کی نگرانی کے لیے "بورڈ آف پیس" کا خیال پیش کیا گیا۔
نومبر 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس منصوبے کی توثیق کی اور بورڈ کو غزہ میں امن بحالی اور تعمیر نو کی ذمہ داری سونپی۔ لیکن جب جنوری 2026 میں اس بورڈ کے چارٹر کا مسودہ سامنے آیا تو سب حیران رہ گئے۔ اس مسودے میں غزہ کا نام تک نہیں تھا۔ بورڈ کو ایک مستقل عالمی ادارے کے طور پر پیش کیا گیا جس کا کام دنیا کے کسی بھی خطے میں تنازعہ پیدا ہونے پر امن قائم کرنا تھا۔ یہی وہ موڑ تھا جب دنیا بھر کے لیڈروں، سفارتکاروں اور مبصروں نے اس پر سوال اٹھانے شروع کیے۔
22 جنوری 2026 کا دن تاریخ میں اس لیے یاد رکھا جائے گا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر "بورڈ آف پیس" کے قیام کی باضابطہ دستاویز پر دستخط ہوئے۔ اس تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ موجود تھے جنہوں نے اسے "عظیم ترین اور معتبر ترین بورڈ" قرار دیا۔ ان کے ساتھ دنیا بھر کے کئی رہنماؤں نے شرکت کی۔
پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف بھی اس تقریب میں شریک ہوئے اور پاکستان نے اس بورڈ میں شمولیت اختیار کی۔ پاکستان کے علاوہ کون کون سے ممالک شامل ہوئے؟ اس فہرست میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، قطر، مصر، اردن، ترکی، مراکش جیسے مسلم ممالک شامل تھے۔ ہنگری، ارجنٹائن، پاراگوئے، آرمینیا، آذربائیجان اور کوسوو جیسے ممالک بھی موجود تھے۔ وسطی ایشیا سے ازبکستان اور قازقستان نے بھی شرکت کی۔
لیکن اس فہرست سے زیادہ دلچسپ ان ممالک کی فہرست ہے جو اس تقریب میں موجود نہیں تھے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، سپین اور ناروے جیسے بڑے مغربی ممالک نے اس تقریب میں شرکت نہیں کی۔ یہ ممالک یا تو بورڈ میں شمولیت کے لیے تیار نہیں ہیں یا انہوں نے دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن وہ یا ان کا کوئی نمائندہ ڈیووس میں موجود نہیں تھا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بورڈ میں شمولیت تو قبول کی ہے لیکن وہ بھی اس دستخطی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔
اب آتے ہیں بورڈ کے ڈھانچے کی طرف۔ بورڈ آف پیس کا سب سے اوپر چیئرمین ہے۔ بورڈ کے چارٹر میں صرف ایک ہی شخص کا نام واضح طور پر لکھا ہوا ہے: "چیئرمین ٹرمپ"۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ کے بانی چیئرمین ہیں اور وہ اس عہدے پر عمر بھر کے لیے فائز رہیں گے۔ ان کے پاس غیر معمولی اختیارات ہیں۔ وہ اکیلے ہی کسی ملک کو بورڈ میں مدعو کر سکتے ہیں، بورڈ کی ذیلی تنظیمیں بنا سکتے ہیں یا ختم کر سکتے ہیں، ایجنڈا طے کر سکتے ہیں، اور فیصلے جاری کر سکتے ہیں۔ انہیں اپنا جانشین نامزد کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔ مختصر یہ کہ بورڈ کی ساری طاقت چیئرمین کے ہاتھ میں ہے۔
چیئرمین کے نیچے "مین بورڈ آف پیس" ہے۔ اس میں وہ تمام ممالک شامل ہیں جنہیں مدعو کیا گیا ہے۔ تقریباً ساٹھ ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔ یہ اراکین عام طور پر ممالک کے سربراہان مملکت یا وزرائے اعظم ہوں گے۔ ان کی مدتِ کار تین سال ہے۔ لیکن اگر کوئی ملک ایک ارب امریکی ڈالر ایک فنڈ میں جمع کروائے تو اسے بورڈ میں مستقل رکنیت مل سکتی ہے۔ یہ فنڈ چیئرمین ٹرمپ کے کنٹرول میں ہوگا۔ ایک ارب ڈالر کی یہ قیمت غزہ کی تعمیر نو کے لیے استعمال ہونے والا ہے۔
مین بورڈ کے نیچے "ایگزیکٹو بورڈ" ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بورڈ کے روزمرہ کے کاموں اور پالیسیوں پر عملدرآمد کریں گے۔ اس ایگزیکٹو بورڈ کے سات اراکین ہیں جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر، اپولو گلوبل مینجمنٹ کے سربراہ مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، اور سیکیورٹی ایڈوائزر رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔
ایگزیکٹو بورڈ کے نیچے "غزہ ایگزیکٹو بورڈ" ہے۔ یہ بورڈ براہ راست غزہ میں تعمیر نو کے کاموں کی نگرانی کرے گا۔ اس بورڈ کے سربراہ کو "غزہ کے لیے ہائی ریپریزنٹیٹو" کہا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سابق خصوصی کوآرڈینیٹر برائے مشرق وسطیٰ امن عمل نکولے ملادینوف کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان کے ساتھ دس دیگر اراکین ہیں جو غزہ کی انتظامیہ کے قومی کمیٹی کو چلائیں گے۔
بورڈ آف پیس کے بارے میں سرکاری طور پر جو کہا جا رہا ہے وہ بہت خوبصورت ہے۔ اس کے چارٹر میں لکھا ہے کہ اس کا مقصد "استحکام کو فروغ دینا، قابل اعتماد اور قانونی حکومت کو بحال کرنا، اور تنازعہ سے متاثرہ یا خطرے سے دوچار علاقوں میں پائیدار امن کو یقینی بنانا" ہے۔ ابتدا میں تو اس کا مقصد صرف غزہ کی تعمیر نو تھا۔ لیکن اب یہ ایک عالمی ادارے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا دائرہ کار پوری دنیا ہے۔
بورڈ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی ادارے جیسے اقوام متحدہ بہت سست، بیوروکریٹک اور ناکام ہو چکے ہیں۔ ان اداروں میں ویٹو پاور کی وجہ سے اکثر اہم فیصلے نہیں ہو پاتے۔ بورڈ آف پیس ایک نئی، تیز رفتار اور عملی تنظیم ہے جو فوری طور پر دنیا بھر میں تنازعات حل کر سکتی ہے۔ اس کے تحت سب سے پہلے غزہ کی تعمیر نو کا کام ہوگا جس کے بعد شام، یمن، یوکرین اور دیگر خطوں میں امن کی کوششیں کی جائیں گی۔
لیکن حقیقت کیا ہے؟ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ بورڈ آف پیس دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ذاتی کوشش ہے۔ وہ اقوام متحدہ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور ایک ایسا متبادل ادارہ بنانا چاہتے ہیں جس پر ان کی مکمل اجارہ داری ہو۔ ٹرمپ خود کہہ چکے ہیں کہ "اقوام متحدہ نے میری کبھی مدد نہیں کی" اور یہ کہ یہ بورڈ "شاید" اقوام متحدہ کی جگہ لے لے۔ ان کے اس بیان نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کی ہے۔
پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے خود ڈیووس میں دستخطی تقریب میں شرکت کی۔ یہ فیصلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے بہت اہم ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے عالمی امن کے لیے کوشاں رہا ہے اور فلسطین کی آزادی کا حامی رہا ہے۔ غزہ میں ہونے والی تباہی پر پاکستان نے ہمیشہ گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے اس فیصلے کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں ایک اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ پاکستان غزہ کی تعمیر نو کے عمل میں حصہ لینا چاہتا ہے جس سے نہ صرف پاکستانی کمپنیوں کو معاشی فائدہ ہوگا بلکہ پاکستان کا عالمی سطح پر اثر و رسوخ بھی بڑھے گا۔ تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے۔
لیکن پاکستان کو اس فیصلے سے کئی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ پہلا چیلنج یہ کہ پاکستان کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق سے سمجھوتا نہ کرے۔ دوسرا چیلنج یہ کہ پاکستان کو چین اور روس جیسے اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات بھی برقرار رکھنے ہیں۔ تیسرا چیلنج یہ کہ پاکستان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بورڈ میں اس کی آواز مؤثر طریقے سے اٹھائی جائے۔
سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، انڈونیشیا، قطر اور پاکستان نے ایک مشترکہ بیان جاری کر کے کہا ہے کہ یہ ساتوں مسلم ممالک غزہ میں مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور منصفانہ اور پائیدار امن کو آگے بڑھانے کے بورڈ کے مقصد کی تائید کرتے ہیں۔ یہ ایک اہم قدم ہے جس سے مسلم ممالک کا ایک مشترکہ موقف سامنے آتا ہے۔
دنیا بھر کے ممالک نے بورڈ آف پیس پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ ممالک نے اس کا خیر مقدم کیا ہے اور اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ کچھ ممالک نے واضح طور پر اسے مسترد کر دیا ہے۔ جبکہ کچھ ممالک ابھی فیصلہ کر رہے ہیں۔
فرانس نے واضح طور پر شرکت سے انکار کر دیا۔ فرانس کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کے کردار کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ جواب میں ٹرمپ نے فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی۔
چین نے کہا ہے کہ وہ "اقوام متحدہ کو مرکز میں رکھنے والے بین الاقوامی نظام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے"۔ چین نے ابھی تک واضح جواب نہیں دیا۔
سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ یہ بورڈ ایک "ٹرمپ ڈومینیٹڈ" ادارہ ہے۔ بورڈ کا پورا کنٹرول صرف ایک شخص کے ہاتھ میں ہے۔ بورڈ کا چارٹر بھی صرف ایک ہی شخص کا نام لیتا ہے: چیئرمین ٹرمپ۔ یہ طرز عمل کسی جمہوری یا شفاف بین الاقوامی ادارے کے لیے بالکل غیر معمولی ہے۔
دوسرا بڑا خدشہ مالیاتی ہے۔ مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی فیس بہت زیادہ ہے۔ صرف امیر ممالک ہی اسے ادا کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بورڈ میں فیصلہ سازی کی طاقت صرف انہی چند امیر ممالک کے پاس ہوگی جو یہ فیس ادا کر سکتے ہیں۔ غریب یا درمیانی آمدن والے ممالک کی آواز دب جائے گی۔
تیسرا خدشہ یہ ہے کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کو کمزور کرے گا۔ اقوام متحدہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کے پاس بین الاقوامی قانونی حیثیت ہے اور جو دنیا کے تمام ممالک کو ایک جیسا درجہ دیتا ہے۔ بورڈ آف پیس ایک غیر رسمی گروپ کی طرح ہے جس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ اگر طاقتور ممالک اس بورڈ کے ذریعے کام کرنے لگیں تو اقوام متحدہ بے اثر ہو جائے گی۔
چوتھا خدشہ یہ ہے کہ بورڈ میں ایسے ممالک کو مدعو کیا گیا ہے جو خود انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا جنگوں میں ملوث ہیں۔ روس کو مدعو کیا گیا ہے جو فی الحال یوکرین میں جنگ لڑ رہا ہے۔ بیلاروس کا آمر الیگزینڈر لُوکاشینکو بھی شامل ہے جسے "یورپ کا آخری ڈکٹیٹر" کہا جاتا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔ ایسے ممالک کا ایک امن بورڈ میں ہونا بہت متنازعہ ہے۔
بورڈ آف پیس کا مستقبل ابھی واضح نہیں ہے۔
اگر بورڈ اپنے اصل وعدے کے مطابق صرف غزہ کی تعمیر نو پر توجہ مرکوز رکھے تو یہ ایک مثبت کام ثابت ہو سکتا ہے۔ غزہ کے لاکھوں بے گھر لوگوں کو گھر مل سکتے ہیں، ہسپتال اور سکول بن سکتے ہیں، اور معیشت بحال ہو سکتی ہے۔
اگر بورڈ ایک مستقل عالمی ادارے کی شکل اختیار کر لے تو یہ عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ کی قیادت میں ایک نیا عالمی امن ڈھانچہ وجود میں آ گیا ہے۔
اگر بڑے مغربی ممالک اس میں شامل نہ ہوئے اور اس کی مالیاتی ڈھانچے پر تنقید جاری رہی تو یہ بورڈ ناکام بھی ہو سکتا ہے۔ صرف چند ممالک کے ساتھ یہ بورڈ مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکے گا۔
بورڈ اور اقوام متحدہ کے درمیان کشمکش پیدا ہو سکتی ہے۔ دونوں ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرنے کی کوشش کریں گے جس سے عالمی امن کے عمل میں الجھن پیدا ہو سکتی ہے۔
بورڈ آف پیس ایک ایسا نادرا ہے جو بیک وقت امیدوں اور خدشات دونوں کو جنم دے رہا ہے۔ ایک طرف غزہ جیسے تباہ حال علاقے کے لیے امید کی کرن ہے، دوسری طرف یہ عالمی اداروں کے موجودہ ڈھانچے کے لیے ایک چیلنج ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ موقع اس لیے کہ پاکستان عالمی امن کے ایک نئے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ امتحان اس لیے کہ پاکستان کو اپنے قومی مفادات، اپنے اصولوں (خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر) اور اپنے اتحادیوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔
حتمی فیصلہ وقت کرے گا۔ کیا بورڈ آف پیس واقعی امن کا سفید کبوتر بنے گا؟ یا پھر یہ طاقتور ممالک کا ایک نیا کھیل ثابت ہوگا؟ یہ دیکھنا باقی ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے، عالمی سیاست کی بساط پر ایک نیا مہرہ رکھ دیا گیا ہے۔ اب یہ مہرہ کس طرف جاتا ہے، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس نئی صورتحال میں دانشمندی سے کام لے، اپنا کردار مثبت رکھے، لیکن ساتھ ہی اپنی خود مختاری اور اصولوں کو ہر صورت میں تحفظ فراہم کرے۔ کیونکہ حقیقی امن وہی ہے جو کمزور کی آواز کو بھی سنے، طاقتور کی من مانی کو نہ چلنے دے، اور انصاف کی بنیاد پر ہو۔
Comments
Post a Comment