ایران جنگ

 

ایران جنگ


کالم از: سر جاوید بشیر


آج 17 March 2026 ہے، اور ایران پر مسلط کی گئی یہ جنگ اپنے انیسویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ 28 February کو جب امریکی اور اسرائیلی بم تہران پر گرے تھے، اس وقت ہم نے سوچا تھا کہ شاید یہ مہم چند دنوں میں ختم ہو جائے گی، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ جنگ نہ صرف پورے مشرق وسطیٰ بلکہ خلیجی ممالک، عراق، لبنان اور شام تک پھیل چکی ہے، اور اس کے اثرات عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیے ہیں۔ 


سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ آج جنگ کس مقام پر کھڑی ہے۔ گزشتہ رات تہران کی فضا میں ایک بار پھر دھماکوں کی گونج سنائی دی، اور لبنان میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ عراق کی صورتحال بھی انتہائی نازک ہے۔ بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے پر ڈرون اور راکٹ حملے کیے گئے، اور بتایا جاتا ہے کہ ایرانی مشیروں کی رہائش گاہ پر حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ عراق، جو طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان پراکسی جنگ کا میدان رہا ہے، اب اس جنگ میں براہ راست ہے۔


خلیجی ممالک کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں ایرانی میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہو گیا۔ دبئی میں مسلسل دوسری رات میزائل الرٹ کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ قطر نے بھی ایک میزائل حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی عرب نے مشرقی علاقے میں ڈرون مار گرائے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیجی ممالک، جو کبھی اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے، اب جنگ کی لپیٹ میں ہیں۔


ایران نے بدلہ لینے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایرانی حکام کے مطابق، انہوں نے اب تک 700 میزائل اور 3600 ڈرون فائر کیے ہیں، اور کم از کم دس ممالک کو نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی موجود ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ "انہیں اب اندازہ ہو گیا ہو گا کہ وہ کس قوم سے نمٹ رہے ہیں، ایران اپنا دفاع کرنے میں ذرا بھی تردد نہیں کرے گا اور جنگ کو جہاں تک ضرورت ہو جاری رکھے گا"۔


لیکن حقیقت یہ ہے کہ تین ہفتے قریب گزرنے کے بعد اب تمام فریقین میں مایوسی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا پلان اے، جس میں خامنہ ای اور ایرانی قیادت کو ختم کر کے نظام کا تختہ الٹنا تھا، ناکام ہو چکا ہے۔ پال راجرز، جو بریڈفورڈ یونیورسٹی میں پیس اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں، نے دی گارڈین میں اپنے تجزیے میں واضح کیا ہے کہ "خامنہ ای کے قتل سے ایرانی نظام نہیں گرا، اور اب امریکہ اور اسرائیل پلان بی پر کام کر رہے ہیں"۔ یہ پلان بی دراصل "داہیہ ڈاکٹرائن" ہے، جس کا مقصد شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے عوام کو حکومت کے خلاف کرنا ہے۔ لیکن غزہ کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے اور پوری پٹی تباہ ہو گئی، لیکن حماس آج بھی موجود ہے۔ ایران کی آبادی 93 ملین ہے، غزہ سے 40 گنا زیادہ، کیا وہاں یہ طریقہ کار کامیاب ہو سکتا ہے؟ بظاہر نہیں۔


ایران کی مایوسی کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ 1200 سے زائد ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں، 32 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، معیشت تباہ ہو رہی ہے، اور عوام بینکوں سے اپنی بچتیں نکالنے پر مجبور ہیں۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں افواہیں ہیں کہ وہ شدید زخمی ہیں، اور ٹرمپ نے خود کہا ہے کہ "ہمیں نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ"۔ ایرانی قیادت کی یہ غیر یقینی صورتحال نظام کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ دوسری طرف عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر بغاوت کے کوئی آثار نہیں ہیں، اور سیکیورٹی فورسز نے خبردار کیا ہے کہ جنوری 2026 کی طرح کے احتجاج کو مزید سختی سے کچلا جائے گا۔


اسرائیل کی مایوسی بھی کم نہیں۔ اسرائیلی عوام کی اکثریت جنگ کی حمایت تو کر رہی ہے، لیکن امن پسند گروہوں کے مظاہروں کو پولیس نے سختی سے کچلا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ غزہ کی آدھی پٹی پر اب بھی حماس کا کنٹرول ہے، اور لبنان میں 886 سے زائد افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنان میں "محدود زمینی آپریشنز" کا اعلان کیا ہے، لیکن مغربی اتحادیوں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں تحمل کا مظاہرہ کرے۔


امریکہ کی مایوسی سب سے زیادہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ جنگ چند دنوں میں ختم ہونے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن آج انیسویں دن بھی جنگ جاری ہے۔ امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں مطالبہ کر رہے ہیں کہ صدر کو جنگ کی منظوری کے لیے کانگریس سے اجازت لینی چاہیے۔ لیکن وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 2 کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہے۔ معاشی طور پر بھی امریکہ مشکلات کا شکار ہے۔ ٹیرف، کمزور روزگار اور افراط زر نے امریکی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔ اور سب سے بڑی بات، ٹرمپ کے اتحادیوں نے آبنائے ہرمز میں فوجی تعاون دینے سے انکار کر دیا ہے۔ برطانیہ نے صاف کہہ دیا کہ وہ اس جنگ کو نیٹو کا معاملہ نہیں سمجھتا۔ جرمنی، فرانس، اٹلی، کینیڈا، جاپان، آسٹریلیا، اسپین، یونان، سویڈن سب نے فوجی تعاون سے معذرت کر لی ہے۔ ٹرمپ نے برطانیہ پر ناراضی کا اظہار کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اس جنگ میں تنہا پڑتا جا رہا ہے۔


عرب ممالک کی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ ایک طرف ان پر ایرانی میزائل برس رہے ہیں، دوسری طرف وہ امریکہ کے ساتھ بھی ہیں اور ایران سے بھی خوفزدہ ہیں۔ لیونارڈو مازوکو نے صحیح کہا ہے کہ "خلیجی ممالک انتہائی محتاط حکمت عملی اپنا رہے ہیں، ان کا مقصد اپنی سرزمین کا دفاع ہے، براہ راست جنگ میں گھسنے سے بچنا ہے"۔ سعودی عرب کی ڈپلومیٹک کوارٹر پر ڈرون حملے، یو اے ای کے شاہ آئل فیلڈ پر آگ، قطر پر میزائل حملے، بحرین کی ریفائنری کو نقصان، یہ سب اس بات کے ثبوت ہیں کہ خلیجی ممالک محفوظ نہیں ہیں۔


 آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی پانچویں حصے کی تیل کی ترسیل ہوتی ہے، عملاً بند ہو چکا ہے۔ ایرانیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس آبنائے کو "دشمنوں کے لیے بند" رکھیں گے۔ آسٹریلیا کے مرکزی بینک نے شرح سود بڑھا دی ہے، اور آئی ای اے کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک ریزرو سے تیل جاری کرنے کے باوجود، مارکیٹ میں بے چینی برقرار ہے۔


اب سب سے بڑا خطرہ ، وہ ہے ایٹمی بم کا امکان ۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات نہیں چاہتے، لیکن ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران "ہمارے لوگوں سے بات کر رہا ہے"۔ سی ایس آئی ایس کے ماہر ڈینیئل بائمین کا کہنا ہے کہ "سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایران ایٹمی ہتھیار بنائے گا؟ امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل دشمنی کو دیکھتے ہوئے، ایرانی قیادت یہ نتیجہ اخذ کر سکتی ہے کہ ایٹم بم ہی ان کی بقا کی ضمانت ہے"۔ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کر لیا تو امریکہ اور اسرائیل کے پاس دو ہی آپشن ہوں گے: یا تو اسے قبول کر لیں، یا مزید بڑے پیمانے پر حملہ کریں۔ ٹرمپ نے خود خبردار کیا ہے کہ وہ "ایک شیطانی سلطنت" کو روکنا چاہتے ہیں۔


اب جنگ کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ بریٹ سٹیفنز نے چار منظرنامے پیش کیے ہیں۔ پہلا منظرنامہ: ریجیم چینج، یعنی ایرانی نظام کا تختہ الٹنا۔ یہ سب سے پرامید منظر ہے، لیکن اس وقت کوئی ثبوت نہیں کہ ایرانی عوام بغاوت پر آمادہ ہیں۔ دوسرا منظرنامہ: ریجیم موڈیفکیشن، یعنی نظام باقی رہے لیکن امریکی مطالبات مان لے۔ لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کے ایٹمی پروگرام اور پراکسیوں سے دستبردار ہونے کا امکان نہیں۔ تیسرا منظرنامہ: جنگ جاری رہے اور چند ہفتوں بعد سیس فائر ہو جائے۔ یہ زیادہ حقیقت پسندانہ ہے، خاص کر اگر ٹرمپ 31 مارچ کو چین کے دورے پر جانا چاہتے ہیں۔ چوتھا منظرنامہ: ریاست کا خاتمہ، یعنی ایران شام کی طرح خانہ جنگی کا شکار ہو جائے، مختلف حصوں میں تقسیم ہو جائے، اور لاکھوں مہاجرین پیدا ہوں۔


سی ایس آئی ایس کا تجزیہ بتاتا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی "جنگوں کے بعد کی جنگیں" جاری رہیں گی۔ اسرائیل مسلسل چھوٹے حملے کرتا رہے گا، ایرانی پروگرام کو کمزور کرتا رہے گا، اور ایران بدلہ لینے کی کوشش کرتا رہے گا۔ یہ ایک لامتناہی سلسلہ بن سکتا ہے۔


پاکستان کے لیے اس جنگ کے اثرات انتہائی گہرے ہیں۔ سب سے پہلے تو انسانی جانی نقصان کا دکھ ہے۔ ابوظہبی میں ایک پاکستانی شہری شہید ہو گیا۔ ایرانی بندرگاہ بندر عباس میں پھنسے 15 پاکستانی ملاحوں کی وطن واپسی کی کوششیں جاری ہیں، اور 650 پاکستانی پہلے ہی واپس لا ئے جا چکے ہیں۔


دفاعی وزیر خواجہ آصف نے ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران پر یہ جنگ دراصل اسرائیلی اثر و رسوخ کو پاکستان کی سرحد تک لانے کی ایک سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ "افغانستان، ایران اور بھارت کی مخالف صف بندی" پاکستان کو کمزور کر سکتی ہے۔ یہ بات انتہائی غور طلب ہے۔ اگر ایران میں حکومت تبدیل ہو کر امریکہ اور اسرائیل کا حلیف نظام آ گیا، تو پاکستان کی مغربی سرحد مکمل طور پر غیر دوست ممالک سے گھِر جائے گی۔


پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شٹل ڈپلومیسی کی بھرپور کوشش کی ہے۔ وہ خود سعودی عرب میں تھے کہ جنگ شروع ہوئی، فوراً ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا، اور سعودی عرب کو یقین دہانی کرائی کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ انہوں نے امریکہ کے مطالبے کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرے، کی مخالفت کی اور کہا کہ "جوہری توانائی کا پرامن استعمال ایران کا جائز حق ہے"۔ یہ مؤقف پاکستان کے اپنے قومی مفاد سے بھی جڑا ہے۔


معاشی طور پر پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر ہیں، اور پاکستان جیسے غریب ملک کی معیشت اس دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتی۔ مہنگائی بڑھے گی، ڈالر مہنگا ہو گا، اور آئی ایم ایف کا پروگرام خطرے میں پڑ جائے گا۔


سیکورٹی کے لحاظ سے بھی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکیں پہلے سے فعال ہیں۔ اگر ایران کا بلوچستان بھی غیر مستحکم ہوا، تو سرحد پار سے علیحدگی پسندوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں ٹی ٹی پی کا مسئلہ ہے۔ اور اب ایران نواز گروہ بھی فعال ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی 20 فیصد آبادی شیعہ ہے، اور ایران پر حملے نے ان کے جذبات بھڑکا دیے ہیں۔ اگر یہ غصہ فرقہ وارانہ فسادات میں بدل گیا تو پورا ملک آگ میں گھِر سکتا ہے۔


آخر میں، میں بتانا چاہوں گا کہ یہ جنگ اب محض عسکری تصادم نہیں رہی۔ یہ ایک مکمل معاشی، سیاسی، سماجی اور نفسیاتی جنگ ہے۔ تمام فریق مایوس ہیں، کوئی بھی واضح طور پر نہیں جانتا کہ یہ جنگ کب اور کیسے ختم ہو گی۔ امریکہ کے اتحادی اس سے دستبرار ہو رہے ہیں، ایران کا نظام اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، اسرائیل وجودی خطرے سے دوچار ہے، خلیجی ممالک آگ اور بارود کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں، اور پاکستان جیسے ملک اس تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔


ایٹمی ہتھیاروں کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اگر ایران نے ایٹم بم بنا لیا تو اسرائیل اور امریکہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مزید بڑے پیمانے پر حملہ کیا تو پورا خطہ تباہ ہو سکتا ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے۔ شاید ٹرمپ 31 مارچ کو چین جانے سے پہلے کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں۔ شاید ایران مزید مزاحمت کرے۔ لیکن اتنا طے ہے کہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل چکا ہے، اور اس تبدیلی کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ پاکستان کو ہر صورت حال کے لیے تیار رہنا ہو گا، کیونکہ جب پڑوسی کے گھر میں آگ لگی ہو، تو اپنے گھر کی حفاظت کرنا سب سے بڑی دانشمندی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

بورڈ آف پیس معاہدہ

ڈالر کے زوال کی داستان